17 مارچ 2012 - 20:30

مصری پارلیمنٹ کے اراکین کی توجہ ان دنوں آئین ساز اسمبلی کے اراکین کے انتخاب کی نوعیت پر مرکوز ہوچکی ہے۔

ابنا: مصر کی پارلیمنٹ کا کل ایک اجلاس بلایا گيا جس کا مقصد آئین ساز اسمبلی کے اراکین کے انتخاب کی نوعیت کا جائزہ لینا تھا۔ اس اجلاس میں تین اہم تجاویز پیش کی گئيں اور اراکین پارلیمنٹ نے بھی زیادہ تر انہی تجاویز پر تبادلۂ خیال کیا۔ پہلی تجویز یہ تھی کہ آئین ساز اسملبی کے تمام ایک سو اراکین کا انتخاب پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے اراکین میں سے کیا جاۓ۔ دوسری تجویز یہ تھی کہ آئین ساز اسمبلی کے اراکین کے لۓ ایسی سیاسی اور ثقافتی شخصیات کا انتخاب عمل میں لایا جاۓ جن کا پارلیمنٹ سے کوئي تعلق نہ ہو۔ تیسری تجویز یہ تھی کہ آئین ساز اسمبلی پارلیمنٹ کے اراکین اور غیر پارلیمانی شخصیات پر مشتمل ہونی چاہۓ۔ عدل و آزادی پارٹی نے ، کہ جس کے پاس پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں زیادہ نشستیں ہیں ، تجویز دی ہے کہ آئین ساز اسمبلی کے چالیس فیصد اراکین کا انتخاب پارلیمنٹ سے کیا جاۓ جبکہ باقی ساٹھ فیصد اراکین کو غیر پارلیمانی شخصیات میں سے منتخب کیا جاۓ ۔ادھر مصر کی پارلیمنٹ کی لبرل اور سیکولر پارٹیاں آئين ساز اسمبلی میں تمام سیاسی جماعتوں اور عوامی گروہوں کے نمائندوں کے شامل کۓ جانے کی خواہاں ہیں۔ اب تک عدل و آزادی پارٹی کی تجویز کو ہی سب سے زیادہ ووٹ ملے ہیں لیکن ابھی تک اس بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے کہ آئین ساز اسمبلی کے لۓ پارلیمنٹ سے کتنے ارکان لۓ جائيں اور غیر پارلیمانی افراد کی تعداد کتنی ہونی چاہۓ۔ آئین ساز اسبملی کی ذمےداری مصر کے آئین کی تدوین ہے۔ اس لۓ مصر کی تمام سیاسی جماعتوں کی کوشش ہے کہ وہ اس اسبملی میں اپنے نمائندے بھیج کر مصر کے آئین کی تدوین میں اپنا کردار ادا کریں۔ مصری پارلیمنٹ کی اسلام پسند اور سلفی جماعتیں آئین ساز اسمبلی کی زیادہ سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے کے لۓ کوشاں ہیں اور چونکہ اخوان المسلمین کی سیاسی شاخ عدل و آزادی پارٹی کے پاس پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کی زیادہ نشستیں ہیں اس لۓ آئین ساز اسمبلی کے اراکین کے انتخاب کی نوعیت کے سلسلے میں اپنا موقف منوانے کےسلسلے میں اسے دوسروں پر برتری حاصل ہے۔ مصرکی پارلیمنٹ کے پاس آئین ساز اسمبلی کے ایک سو اراکین کے انتخاب کے سلسلے میں اتفاق راۓ حاصل کرنے کے لۓ چوبیس مارچ تک کا وقت ہے۔ اور اس کے بعد مصر کے آئین کی تدوین کا کام باضابطہ طور پر شروع ہوجاۓ گا۔ اور یہ اسمبلی بھی چھ ماہ کے اندر آئين کی تدوین کا کام مکمل کرنے کی پابند ہوگي۔ ہر ملک کی داخلہ اور خارجہ پالیسیوں کو چونکہ اس ملک کے آئین کی بنیاد پر ہی وضع کیا جاتا ہے اس لۓ آئین ساز اسمبلی کے اراکین کا تناسب بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ اسی حقیقت کے پیش نظر یہ بات مسلم ہے کہ موجودہ صورتحال میں آئين ساز اسمبلی کے اراکین کا انتخاب مصر کی پارلیمنٹ کے اراکین کی ایک سنگین ذمےداری ہے اور اس اسمبلی کے اراکین کے انتخاب میں احتیاط سے کام لینا نہ صرف مصر کے عوام کا مطالبہ ہے بلکہ یہ اس مصری سماج کی ضرورت بھی ہے جو ایک نۓ نظام کا تجربہ کررہا ہے اور جو یہ توقع بھی رکھتا ہے کہ نیا نظام اور حکومت ان مقاصد کو حاصل کرے گی جن کے لۓ مصر کے عوام نے انقلاب برپا کر کے ایک ڈکٹیٹر کی حکومت کو سرنگوں کیا تھا۔
 ........
/169